کابل22جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)افغانستان میں طالبان نے تاجکستان کی سرحد کے قریب قندوز صوبے کے قلعہ زال ضلع پر چار روز کی جنگ کے بعدقبضہ کرلیاہے تاہم افغان سکیورٹی حکام کا دعویٰ ہے کہ محض اسٹریٹیجک اقدام کے تحت تہوڑی دیر کے لیے علاقہ خالہ کیا گیا۔صوبائی کونسل کے رکن امیر الدین ولی کے بقول طالبان نے گزشتہ چار دنوں سے قلعہ زال کا محاصرہ کر رکہا تہا اور گزشتہ شب وہ ضلعی انتظامیہ کے اہم دفاتر اور اطراف کے علاقے پر کنٹرول پانے میں کامیاب ہوگئے۔ ایسی بہی اطلاعات ہیں کہ حکومتی فورسزکے متعدد اہلکاروں کے بشمول ضلعی پولیس سربراہ سیف اللہ امیری بہی طالبان کے حملے میں مارے گئے ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی فورسز کو بہاری جانی اور مالی نقصان اٹہانا پڑا ہے۔افغان طالبان نے ایسے دعوؤں کو مسترد کردیا ہے کہ ان کے سربراہ کی ہلاکت کے بعد سے ان کے حملوں میں کمی واقع ہو گئی ہے۔طالبان کا کہنا ہے کہ رمضان کے مہینے کے بعد آج سے وہ حملوں کا نیا سلسلہ شروع کرنے جا رہے ہیں۔شمالی افغانستان میں پولیس کی اسپین غر کور کے کمانڈر شیراز کامہ وال نے ان اطلاعات کو غلط قرار دیا ہے۔ میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں کامہ وال کا کہنا تہا کہ حکومتی فورسز نے محض اسٹریٹیجک پس رفت کی ہے اور جوابی کارروائی میں ضلع کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ہے۔ ضلعی حکومت کے سربراہ محبوب اللہ سعیدی کے بقول کم از کم پچاس حملہ آور طالبان افغان سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپوں میں مارے گئے۔ سعیدی نے دو سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی۔گزشہ برس قندوز صوبے کے دارالحکومت قندوز شہر پر قریب تین روز تک کے قبضے کی وجہ سے طالبان نے ملک بہر میں خوف کی لہر دوڑا دی تہی۔ اسے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد کی سب سے بڑی فوجی پیشقدمی قرار دیا گیا تہا۔ اگرچہ حکومتی فورسز نے 28ستمبر کو اس شہر کا کنٹرول کہونے کے بعد یکم اکتوبر کو دوبارہ حاصل کر لیا تہا مگر اس واقعے کے بعد سے بالخصوص شمالی افغانستان میں طالبان کے اثرورسوخ کی دھاک بیٹھ گئی ہے۔تجزیہ کاروں کے بقول افغان اور اتحادی فوج نے طالبان دور کے بعد کافی عرصے تک شمالی افغانستان سے طالبان کو فرار ہونے اور دور رہنے پر مجبور کر دیا تہا مگر ایک ڈیڑھ برس سے یہ علاقے ایک مرتبہ پرپھرمقامی،ازبک، تاجک، چیچن اور پاکستانی عسکریت پسندوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔تجزیہ نگار عاشق اللہ یعقوب کے بقول قندوز شہر اور اب قلعہ زال پر طالبان کا قبضہ حکومتی فورسز کو درپیش چیلنجز کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی میں حکومت مخالف جذبات کی بہی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق شمالی افغانستان میں بہت سے لوگ حکومت کے حامی طاقتور اور مسلح کمانڈروکے ظلم و جبر سے نالاں ہیں اور وہ ان سے نجات کی راہ ڈہونڈ رہے ہیں، ایسے میں طالبان کو موزوں ماحول میسر آ رہاہے۔گزشتہ برس کے سقوط قندوز پر حکومت کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ نے سکیورٹی اداروں میںGreyAreasکوذمہ دار ٹہہرا یا تہا۔ اس شمالی صوبے کے باشندوں کو یہ بہی گلہ ہے کہ مرکزی حکومت یہاں کے امن کے لیے خاطرخواہ اقدامات نہیں اٹہا رہی۔اب قندوز صوبہ ایک عرصے سے شمالی افغانستان میں طالبان کے ایک مضبوط گڑھ کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ ملک کے شمال اور شمال مشرقی صوبوں کو جانے والے قریب تمام راستے قندوز سے ہوکر گزرتے ہیں اور ان دنوں ان سڑکوں پر طالبان کی جانب سے ایسے افراد کو یرغمال بنائے جانے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جن پرکسی نہ کسی طرح حکومت سے منسلک ہونے یا اس کے ساتہ ہمدردی رکہنے کا شبہ ہو۔ ان دنوں قندوز کے پڑوسی صوبے تخاراوربدخشان سمیت کئی دیگر شمالی صوبے طالبان کے مسلسل حملوں کی لپیٹ میں ہیں۔